آنکھ آئی ہو تو نکلنے والے پانی کا صحیح حُکم








آنکھ آئی ہو تو نکلنے والے پانی کا صحیح حُکم

⭕آج کا سوال نمبر ۳۲۹۷⭕

آنکھ سے پانی بلا درد کے نکلے تو کیا حکم ہے؟ یا درد کے ساتھ یا بیماری سے نکلے جیسے کسی کو آنکھ ائی ہو تو کیا حکم ہے؟ وہ پانی پاک ہے یا ناپاک؟

🔵جواب🔵

حامدا ومصليا ومسلما

اگر کسی کی آنکھوں سے تیز روشنی دھوپ کی تپش سے، سرمہ لگانے سے،نماز میں کھانسی روکنے نزلہ یا رونے کی وجہ سے پانی بہے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے، کیونکہ یہ پاک ہے اور اگر کسی شخص کی آنکھ دکھنے پر پانی بہتا ہے تو بعض نے اسے نجس قرار دے کر وضو توڑنے والا کہا ہے،

لیکن امام ربانی حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو خلاف تحقیق قرار دیا ہے.( یعنی وہ پاک ہے اور اس سے وضو بھی نہیں ٹوٹے گا،)

📗فتاوی رشیدیہ ۲۸۳

اور علامہ شامی رحمت اللہ علیہ نے بھی صاحب فتح القدیر ابن ہمام رحمت اللہ علیہ کی یہ تحقیق نقل کی ہے کہ ایسی صورت میں وضو کا حکم استحباب کا ہے، وجوب کا نہیں (وضو کر لو تو بہتر، وضو کرنا ضروری نہیں) اور قواعد شرعیہ کے مطابق یہی راجح ہے۔

📓مسائل مہمہ ۴/۴۳

📔فتاوی دارالعلوم دیوبند ۱/۲۶۵ باحوالہ

📘در مختار اعلی رد المختار ۱/۲۵۱ ۱/۲۳۷,۲۵۱

📕اپ کے مسائل اور ان کا حل ۲/۳۸

📙مسائل وضوء صفحہ ۸۷
مفتی رفعت قاسمی

واللہ اعلم بالصواب

✍🏻مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی

🕌 استاد دارالعلوم رامپورہ سورۃ گجرات ہند