اسلامی نیا سال میں کیا کرے؟








اسلامی نیا سال میں کیا کرے؟

⭕ آج کا سوال نمبر ۳۲۷۲⭕

ابھی اسلامی نیا سال ۱۴۴۵ آنے والا ہے نئے سال کی خوشی میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ کیا ایک دوسرے کو مبارکباد دے سکتے ہیں، اس میں کوئی گناہ تو نہیں ہے؟

🔵 جواب 🔵

حامدا و مصلیا و مسلما

اسلام ایک سادگی والا دین ہے اس میں غیر قوموں کی نقالی ہو، ایسی باتوں سے احتیاط کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اور دن منانے کی رسم نہ ہونا یہ اس کا اعجاز ہے اسی لیے ھجری تاریخ کی شروعات حضرت عمرؓ کے دور سے شروع ہونے کے باوجود حضرت عثمان، حضرت علی صحابہ وغیرہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے ميں کوئی خاص عمل ثابت نہیں، البتہ ایک دعا پڑھنا ثابت ہے اس دعا کو پڑھ لینا چاہیے وہ دعا یہ ہے 👇

اَلّٰلھُمَّ اَدْخِلْہُ عَلَیْنَا باِلْاَمْنِ وَالْاِیْمَانِ وَالسَّلاَمَةِ وَ الْاِسْلاَمِ وَ رِضْوَانٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ وَ جِوَارٍ مِّنَ الشَّیْطَانِ

اور اگر مبارکباد سے مقصود دعا ہو کہ نیا سال خیر و برکت کے ساتھ گذرے اور نئے سال کی خیرات و برکات حاصل ہو تو اسکی گنجائش ہے البتہ صرف غیروں کی طرح رسم ادا کرنا مقصود نہ ہو…… لیکن فی زماننا مبارکباد سے عموما رسم ہی ہوتی ہے جو کہ نصاری کی مشابہت ہے لہذا اس سے احتراز لازم ہے….
📗 الموسوعہ الفقہیہ ۱۴/۱۰۰
📑 آن لائن فتاوی دارالعلوم دیوبند سے ماخوذ اضافے کے ساتھ

✅ تصدیق
۱, مفتی جنید امام و خطیب مسجد نور کولابا بمبئی
۲, مفتی فرید کاوی جمبوسر
۳, مولانا سلیم میمن گورگانوی

واللہ اعلم بالصواب

✍🏻 مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی

🕌 استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات