عورتوں کا ملازمت یا تجارت کی جائز، و نا جائز صورت








عورتوں کا ملازمت یا تجارت کی جائز، و نا جائز صورت

⭕ آج کا سوال نمبر ٣٣١٦ ⭕

عورتیں اسکول، دوکان کمپنی سرکاری دفتر پر ملازمت یا تجارت پردے میں رہکر کر سکتی ہے، یا نہیں?
اگر نہیں کر سکتی، تو کن شرطوں کے ساتھ کر سکتی ہے، کیوںکہ بعض مرتبہ کمائی کی مجبوری ہوتی ہے؟

🔵 جواب 🔵

حامدا و مصلیا و مسلما

عورتوں کو ملازمت یا تجارت دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے،

١، بے پردگی نہ کرے، پردے و نقاب کے اہتمام کے ساتھ وہاں آنا جانا ہو،

٢، وہاں مردوں کے ساتھ اختلاط-میل جول نہ ہو چاہے کوئی بھی جگہ ہو، سرکاری ہو یا پرائیوٹ، اختلاط یعنی وہاں اوپر سے نیچے تک کا اسٹاف، گاہک، پڑھنے، پڑھانے والی سب عورتیں ہو،مردوں کا بلکل دخل نہ ہو۔

پردہ کے ساتھ بھی مردوں سے میل جول، بات چیت میں فتنے اور گناہ کا وجود میں آنے کا اندیشہ ہے اس لئے جائز نہیں،
اور آجکل عورتیں غیروں کے ساتھ بھاگ کر مرتد ہونے ایک بڑی وجہ ان کا کاروبار اور نوکری کرنا بھی ہے لہاذا اس سے بچنا بہت ہی ضروری ہے

عورت کے لئے اس فتنہ کے دور میں احتیاط اسی میں ہے کہ بلا سخت ضرورت کے ملازمت نہ کرے، بلکہ گھر پر ہی سلائی کا کام، مہندی کا کام، جائز طریقے سے عورتوں کو مزین- سجانے کا کام, ٹیوشن, پیکنگ وغیرہ کا کام کرے،

📘فتاوٰی قاسمیہ ٢۳/۵٧۵ سے ماخوذ

واللہ اعلم بالصواب

✍🏻 مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی

🕌 استاذ محترم دار العلوم رام پورہ سورت گجرات