قرضدار کا ٹال مٹول کرنا








قرضدار کا ٹال مٹول کرنا

⭕آج کا سوال نمبر ۳۲۷۰⭕

ایک شخص نے کسی کو قرض دیا ہے مقروض قرض ادا نہیں کرتا اور قرض دینے والا بار بار مانگتا ہے پھر بھی ٹال مٹول کرتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟

🔵جواب🔵

حامدا ومصليا ومسلما

بلا کسی شرعی عذر کے کسی کی رقم دبا لینا اور باوجود وُسعت اور سہولت کے مطالبے پر بھی نہ دینا شریعت کی نگاہ میں ظلم اور حرام ہے، لہذا مقروض کو چاہیے کہ جلد از جلد قرض ادا کرے،

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مالدار شخص کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے،

📗مشکات شریف ۱/۵۳

ایک دوسری حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت اور سزا کو حلال کر دیتا ہے، حضرت عبداللہ ابن مبارک رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یعنی زبان سے لعنت اور ملامت کی جائے گی اور سزا یہ ہے کہ اسے قید کر دیا جائے گا۔

📕ترمذی شریف ۲/۴۳
فتاوی دارالعلوم زکریا ۵/۴۸۷

واللہ اعلم بالصواب

✍🏻مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی

🕌 استاد دارالعلوم رامپورہ سورۃ گجرات ہند