محرم میں شادی یا کوئی اور خوشی کا کام کرنا کیسا ہے؟








⭕ آج کا سوال نمبر٣٢٨١⭕

محرم کے مہینے میں شادی کرنا، رخصتی کرکے ولیمہ کرنا، بچے کی ختنہ کروانا یا خوشی کا کوئی اور کام کرنا جائز ہے؟

🔵 جواب 🔵

حامدا و مصلیا و مسلما

جائز ہے ، شریعت میں اس کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ، باقی بڑی شخصیتوں کی شہادت سے کوئی مہینہ خالی نہیں اس بنا پر تمام مہینوں میں نکاح سے احتراز ممکن نہیں اور شریعت میں کسی کے انتقال پر تین دن سے زائد سوگ منانا جائز نہیں رکھا گیا، صرف بیوی اپنے شوہر کے انتقال پر چار مہینے دس دن عدت میں سوگ مناتی ہے،

لہذا شادی اور ولیمہ اس دن میں اور تمام عشرہ محرم میں بلاشبہ جائز ہے،

📘 امداد المفتین جلد ۱ صفہ ۹۶

اس ماہ میں نکاح نہ کرنے کی رسم کو ختم کرنے کے لیے نکاح کرنے پر زیادہ ثواب ملنے کی امید ہے، ایک روایت کے مطابق حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کا نکاح محرم کے مہینے میں ہوا تھا سیرت مصطفی میں مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں اسی سال یعنی سن ۲ ہجری میں اس میں اختلاف کے مہینہ کونسا تھا ذی الحجہ یا محرم یا صفر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سب سے چھوٹی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی علی رضی اللہ عنہ سے فرمائی۔

📗 (سیرت مصطفی جلد ۲ صفحہ ۱۷۱) اور بعض مورخین نے محرم کے مہینے میں ہی نکاح کے قول کو راجح قرار دیا ہے۔

🗃️دارالافتاء جامعۃ العلوم اسلامیہ بنوری ٹاون فتاوی نمبر ۱۴۳۹۰

واللہ اعلم بالصواب

✍🏻 مفتی عمران اسماعيل میمن حنفی

🕌 استاذ دار العلوم رام پورا سورت گجرات ھند